نئی دہلی ،19؍مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کانگریس اور جنتا دل (ایس)کے رہنماؤں کے اس الزام کو سرے سے مسترد کر دیا کہ کرناٹک میں ان ممبران اسمبلی کو 100 کروڑ روپے دے کر توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ میں طویل عرصے سے اتر پردیش کی سیاست میں رہا میں ہوں میں نے حکومتوں کو بنتے اور ٹوٹتے دیکھا ہے، میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں، اتر پردیش میں ایک بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کی ہماری پارٹی نے کبھی خرید و فروخت کو فروغ دیا۔وزیر داخلہ نے کہاکہ کرناٹک میں اگر کچھ رکن اسمبلی چاہتے ہیں کہ ایک مستحکم حکومت ہو اور اگر ایسے کچھ رکن اسمبلی اس بنیاد پر ہماری حمایت کرتے ہیں تو ہم انہیں انکار نہیں کر سکتے۔یہ پوچھے جانیپر کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ لالچ کی وجہ سے یہ ممبر اسمبلی اپنی رائے تبدیل کرنا چاہتے ہیں، راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ اب اس کا درست جواب تو وہی دے سکتے ہیں۔میں کسی شخص کی نیت کا سرٹیفکیٹ تو جاری نہیں کر سکتا۔لیکن اگر کوئی آگے بڑھ کر ہماری حمایت کرنا چاہتا ہے تو ہم اسے قبول کریں گے۔راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ کرناٹک کے عوام نے حال میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو مینڈیٹ دیا ہے۔ہماری پارٹی 104 نشستیں حاصل کر سب پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔گورنر نے ہماری پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔جب ان سے پوچھا کیا گیا کہ گزشتہ سال گوا میں انتخابات کے بعد کانگریس سب سے بڑی پارٹی تھی تو اسے حکومت کیوں نہیں بنانے دیا گیاتو راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ گوا میں ہم نے نہیں کہا کہ سب سے بڑی پارٹی کو مدعو نہیں کیا جائے۔وہاں کی سب سے بڑی پارٹی (کانگریس)نے حکومت بنانے کا دعوی ہی پیش نہیں کیا۔اس وجہ جس نے دعوی پیش کیا اس کو مدعو کیا گیا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو لے کر مکمل طور پر پراعتماد ہیں اور وہ ایساکریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ بغیر اکثریت حاصل کئے حکومت بنانے کا فن بی جے پی نے کس طرح حاصل کی تو سنگھ نے کہاکہ یہ آرٹ نہیں ہے، یہ لوگوں کی ہماری پارٹی میں یقین کا اظہار ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو کہ آگے آکر کہتے ہیں کہ ریاست میں صرف بی جے پی مستحکم حکومت دے سکتی ہے۔کانگریس صدر راہل گاندھی کے الزامات پرکہ میڈیا اور عدلیہ میں خوف کا ماحول ہے، سنگھ نے کہاکہ اگر عدلیہ میں خوف ہوتا تو پھر کیا کل جو سپریم کورٹ کرناٹک میں ایک دن میں فلور ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا ہوتا؟